وجیا پور 21/دسمبر (ایس او نیوز)وجیاپور میں مبینہ طور پرسات آٹھ لڑکوں کے ایک گروہ نے نا بالغ دلت لڑکی کو اغوا کرکے اس کی اجتماعی عصمت دری کی اور پھراسے بے دردی سے قتل کردیا ۔ دلت تنظیموں نے اس تعلق سے سخت احتجاج کرتے ہوئے لڑکی کی لاش کے ساتھ امبیڈکر سرکل پر دھرنا دیا اور خاطیوں کی گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کیا۔اس واقعہ کے پس منظر میں حالات کشیدہ ہوگئے۔
کہا جاتا ہے کہ دانیشوری (14سال) نامی دلت لڑکی ملیکا ارجن ہائی اسکول میں 9 ویں جماعت کی طالبہ تھی جسے بائک پر آنے والے نوجوانوں کے ایک گروہ نے اغوا کیا اور قریب کی منجو ناتھ کالونی میں واقع ایک گھر کے اندر اس کی اجتماعی آبروریزی کی۔ پھر اسے سخت زخمی حالت میں ایک چبوترے کے قریب پھینک کر فرار ہوگئے۔ بے ہوشی کی حالت میں ملنے والی زخمی دانیشوری کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کیا گیا مگر علاج کارگر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔
نوعمرطالبہ دانیشوری کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے واقعہ پر ریاست بھر میں غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ریاست گیر پیمانے پردلت حقوق کے لئے سرگرم تنظیموں کے علاوہ طلبہ ، نوجوانوں اور خواتین کی تنظیموں نے اس سنگین جرم کی سخت مذمت کی ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ جبکہ ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ : "دلت بچی کی عصمت دری اور قتل کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ جلد ہی خاطیوں کو گرفتار کرکے انہیں سخت سزا دلوائی جائے گی۔یہ ایک غیر انسانی فعل ہے۔ مجرم چاہے کوئی بھی ہو اسے بخشا نہیں جائے گا۔ ریاستی حکومت ایسے جرائم کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی۔"ضلع انچارج وزیر ایم بی پاٹل نے مہلوک لڑکی کے خاندان والوں کوسرکار کی طرف سے 8لاکھ روپے اور خود اپنی جانب سے 5لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کی جلد گرفتاری کے لئے پولیس کو ہدایات دی گئی ہیں۔ دلت لیڈر یمونپّا سدّا ریڈّی نے کہا کہ یہ ایک شرمناک اور غیر انسانی جرم ہے۔پولیس کو چاہیے کہ مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کرکے انہیں پھانسی کی سزا دلوائے۔ اور اس وقت احتجاج نہیں رکے گا۔